بھٹکل 3؍جولائی (یس او نیوز)بیندور کی ایک مسلم لڑکی نے بینگلور میں بر سرروزگار بھٹکل کے ہندو لڑکے کے ساتھ شادی رچاکر ہندو دھرم کو اپنالیا ہے، اس کے ساتھ ہی 26سال بعد تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ہے۔اس طرح بین المذہبی شادی رچانے والی لڑکی کا نام ریشما بانو اور لڑکے کا نام وشواناتھ بتایاگیا ہے۔
ایک کنڑا روزنامہ کی خبر کے مطابق 26سال پہلے وشواناتھ کے خاندان کے ایک فرد نے ایک مسلم خاتون سے شادی کرلی تھی۔ عرصے تک ہندو رہنے کے بعد اس نے اسلام قبول کرلیا تھااور دونوں میاں بیوی ایک ہی مذہب اختیار کیے ہوئے تھے۔ اس جوڑے کی بیٹی ریشما بانو نے اب تاریخ دہرانے کا کام کیا۔ وشواناتھ جو رشتے میں اس کی پھوپھی کا بیٹا ہے 6 مہینے قبل ریشما کا وشواناتھ کے ساتھ تعارف ہوا۔ جس کے بعد دونوں کی دوستی عشق میں بدل گئی۔

رپورٹ کے مطابق اُدھر ریشما بانو کے گھر والے اُس کی شادی مسلم گھرانے میں رچانے کی تیاری کررہے تھے، مگر اس دوران وشواناتھ سے شادی رچانے میں گھر والوں کی طرف سے رکاوٹ کو دیکھتے ہوئے ریشما بانو نے وشواناتھ کے ساتھ18جون کو بینگلورو بھاگ گئی اور وہاں کے ایک مندر میں دونوں نے ہندورسم رواج کے مطابق شادی رچائی۔ اس کے بعد لڑکے کے گھروالوں نے ان دونوں کو بھٹکل بلالیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق بھٹکل کے سب رجسٹرار دفتر میں ان کی شادی کا رجسٹریشن کرنے اور تمام ضروری قانونی دستاویزات تیار کرنے کے بعد آسارکیری کے نچھل مکّی مندربھٹکل میں مذہبی رسومات اداکرتے ہوئے اس لڑکی کو باقاعدہ ہندو دھرم میں شامل کرلیا گیا ہے۔